لا حاصل

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - وہ آراضی جس سے کوئی آمدنی یا پیداوار وغیرہ نہ ہو۔ (جامع اللغات، نوراللغات) ١ - جس سے کچھ حاصل نہ ہو، بے سود، بےکار، بے نتیجہ، بے فائدہ۔ "علمی بحث میں جو جنگ کی جاتی ہے وہ صرف اپنے نفس کے واسطے ہوتی ہے، یہ لاحاصل چیز ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ٧٨ ) ٢ - جو کسی طرح حاصل نہ ہو، جس کا حصول ناممکن ہو۔ "کیا تم بھی میری طرح لاحاصل کی تلاش میں ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ٣٧ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'لا' بطور سابقہ نفی عربی اسم 'حاصل' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٩٢ء کو "دیوانِ محب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس سے کچھ حاصل نہ ہو، بے سود، بےکار، بے نتیجہ، بے فائدہ۔ "علمی بحث میں جو جنگ کی جاتی ہے وہ صرف اپنے نفس کے واسطے ہوتی ہے، یہ لاحاصل چیز ہے۔"      ( ١٩٥٣ء، حیات شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ٧٨ ) ٢ - جو کسی طرح حاصل نہ ہو، جس کا حصول ناممکن ہو۔ "کیا تم بھی میری طرح لاحاصل کی تلاش میں ہو۔"      ( ١٩٨٨ء، جب دیواریں گریہ کرتی ہیں، ٣٧ )

جنس: مذکر